Thursday, 5 February 2026

آس دل میں ہے مرے جلوۂ خضرائی کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

تضمین بر کلام رضا


آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی

آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی

میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی

’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘

’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘


جان پر ظلم کیے اپنی ہی رُسوائی کی

خاک آلود ہوئے ہر جگہ کاسائی کی

بات بننے پہ پہنچ آئی تماشائی کی

’’لاج رکھ لی طمعِ عفو کے سودائی کی‘‘

’’اے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی‘‘


ماء و بے ماء کے تِرے آگے جزائر حاضر

سامنے سب تِرے اشباہ و نظائر حاضر

نقشِ امکاں کے تِرے آگے دوائر حاضر

’’عرش تا فرش ہیں آئینہ ضمائر حاضر‘‘

’’بس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی‘‘


بس کہ تفصیل ہے تو باقی ہیں سارے اجمال

ایک تو اصل ہے اور باقی ہیں سارے اظلال

کیسے ممکن ہے کہ پوشیدہ ہوں تجھ سے احوال

’’شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال‘‘

’’دھوم وَالنّجم میں ہے آپ کی بینائی کی‘‘


واہ کیا گردوں شکوہ آپ کا ہے نازِ خرام

مرغِ سدرہ کہ ہے اک حیرتِ پیہم میں مدام

اِس سے بڑھ کر اے شہا پیش ہو کیا حُجّتِ تام

’’پانسو سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گام‘‘

’’آس ہم کو بھی لگی ہے تِری شنوائی کی‘‘


کُن کا اسلوب ہے تُو اور فکاں کا منہج

مرجعِ علمِ حقائق توئی سب کا مخرج

ہے تِری شان کی اُٹھتی ہوئی ایسی سج دھج

’’چاند اشارے کا ہِلا حکم کا باندھا سورج‘‘

’’واہ کیا بات شہا تیری توانائی کی‘‘


پیشِ خاطر نہیں ہے جس کے قد و قامتِ عرش

جس کے آگے ہے خجل تابشِ ہر طلعتِ عرش

جس کی بہتات پہ رازی ہے اُٹھے حیرتِ عرش

’’تنگ ٹھہری ہے رضا جس کے لیے وسعتِ عرش‘‘

’’بس جگہ دل میں ہے اُس جلوۂ ہرجائی کی‘‘


میرزا امجد رازی

No comments:

Post a Comment