قیام
آؤ رات کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی سمت چلتے ہیں
آؤ کسی لمحے کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر
کچھ میٹهی باتیں کرتے ہیں
ریت سے کچھ وعدے چُنتے ہیں
خیالوں کی دهڑکنوں کو سُنتے ہیں
آؤ بیٹھ جاؤ
اس آگ میں دہکتی خواہشوں کو تاپتے ہیں
ہم دونوں کائنات کے جسم پر بیٹھ کر ہانپتے ہیں
ذرا کو لرزتے ہیں، کانپتے ہیں
ہوا کی بات نہ سُننا یہ تو پُرائی ہے
آج ہم دونوں کی رہائی ہے
اس فسُوں کی گود میں ٹهہر جاؤ
یہ آخری آسمان کا آخری در ہے
یہ اپنے وصل کا پہلا گهر ہے
تحسین گیلانی
No comments:
Post a Comment