Tuesday, 10 February 2026

یہ اپنے وصل کا پہلا گهر ہے

 قیام


آؤ رات کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی سمت چلتے ہیں 

آؤ کسی لمحے کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر 

کچھ میٹهی باتیں کرتے ہیں 

ریت سے کچھ وعدے چُنتے ہیں 

خیالوں کی دهڑکنوں کو سُنتے ہیں 

آؤ بیٹھ جاؤ

اس آگ میں دہکتی خواہشوں کو تاپتے ہیں 

ہم دونوں کائنات کے جسم پر بیٹھ کر ہانپتے ہیں

ذرا کو لرزتے ہیں، کانپتے ہیں

ہوا کی بات نہ سُننا یہ تو پُرائی ہے 

آج ہم دونوں کی رہائی ہے

اس فسُوں کی گود میں ٹهہر جاؤ 

یہ آخری آسمان کا آخری در ہے 

یہ اپنے وصل کا پہلا گهر ہے


تحسین گیلانی

No comments:

Post a Comment