عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا
حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا
سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے
غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا
آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال
جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا
آپﷺ نے اپنی رسالت کا تب اعلان کیا
گونجتا دہر میں جب نعرۂِ تکبیر نہ تھا
جرم، دنیا پہ مِرا، آپﷺ نے کھلنے نہ دیا
ورنہ مجھ سا تو کوئی خوگرِ تقصیر نہ تھا
سر جھکایا نہ درِ یار پہ کیوں جان گیا
دل کی خاطر تو کوئی مسئلہ گمبھیر نہ تھا
ہم اسے خارِ مدینہ سے ہی سلجھا لیتے
اپنے ہاتھوں میں مگر دامنِ تقدیر نہ تھا
ہجر کے دشت و جبل بہہ گئے ہوتے رضوی
آہ ، پُر جوش مِرا نالۂ شبگیر نہ تھا
نورالہدیٰ رضوی
No comments:
Post a Comment