Tuesday, 10 February 2026

مستقبل اک بچہ ہے حال کی گود تک آتے آتے

 مستقبل


مستقبل اک بچہ ہے

حال کی گود تک آتے آتے

رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے

پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ

رخ پہ طمانچے لگتے ہیں

درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا

سہما سہما رک رک کر آگے بڑھتا جاتا ہے

اور کبھی یہ بھی ہوتا ہے

دل کے دروازوں پر آ کر خواب کی پریاں ہنستی ہیں اور یہ لڑکا

ان پریوں کے لالچ میں ہنس ہنس کر آگے بڑھتا ہے

وقت کے رتھ پر دونوں یوں ہی آگے پیچھے بھاگتے ہیں

آگے پیچھے

جانے کب تک

اور آخر وہ منزل بھی آ جاتی ہے

جب یہ الھڑ سا لڑکا جو کل تک اک معصوم سا ننھا بچہ تھا

شانے پر خوابوں کی لاش اٹھائے

دل میں اپنے زخم تمنا کا نشتر اور درد چھپائے

سینے میں آتی جاتی سانسوں کا طوفان لئے

آنکھوں میں اک پیاس لیے

تھکا تھکا سا

گر پڑتا ہے سستانے کو

گود میں اپنے ماضی کی

اور جب اٹھتا ہے تو دنیا اس کو بوڑھا کہتی ہے


شمیم حنفی

No comments:

Post a Comment