آشفتہ سرِ گیسُوئے خمدار تھے ہم بھی
ہاں دامِ محبت میں گرفتار تھے ہم بھی
ہم نے بھی کِیا تھا کبھی ایمان کا سودا
ہاں اک بُتِ کافر کے طلبگار تھے ہم بھی
ہم پر بھی لگے کُفر کا، الحاد کا فتویٰ
کچھ دن لب و عارض کے پرستار تھے ہم بھی
تھے ایک نظر ڈالنے کو ہم پہ بضد وہ
اور شوق سے مر مِٹنے کو تیار تھے ہم بھی
یونہی نہیں ہم پر ہے کُھلا راز جنوں کا
اک عہد میں رُسوا سرِ بازار تھے ہم بھی
غُنچہ نہ سہی، گُل نہ سہی، خار ہی، لیکن
اس باغِ چمن کے کبھی حقدار تھے ہم بھی
ہم کو نہ بتاؤ کہ لُٹا قافلہ کیوں ہے
کیا تم کو خبر قافلہ سالار تھے ہم بھی
اک واعظِ خُوش پوش نے بہکا دیا ورنہ
پوچھو در و دیوار سے میخوار تھے ہم بھی
منبر پہ ہیں کچھ، اور پسِ محراب ہیں کچھ اور
کچھ دن سہی، ذی جبہ و دستار تھے ہم بھی
کچھ حادثوں نے چھین لی ہیں رونقِ رُخسار
ماضی میں وگرنہ گُل و گُلزار تھے ہم بھی
سب ٹُوٹ گئے، کچھ نہ بچا زیست میں طاہر
اک خواب تھے، اک عہد کا اقرار تھے ہم بھی
طاہر ضیا
No comments:
Post a Comment