آدھی رات کو
کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟
رات کے احترام میں
رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے
ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے
اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو
مکمل تاریکی
بالکل رات جیسی
دو ایک جیسی چیزیں
جیسے رات اور تاریکی
نیند کے مقدس احرام میں لپیٹ کر تھکے انسان کو سلا دو
سوئے ہوئے ہیں صدیوں سے اہرام
جن پر پیلی ریت اڑاتی صحرا کی چمکتی ہوائیں
افسوس، تم پھر روشنی کا ذکر کرتے ہو
اور بھلا دیتے ہو دو ایک جیسی چیزیں چھت پر بیٹھی
پیلا بلب زرد رو بچے کی طرح
جس کی آنکھوں میں نیند اور بھوک
اور گلے میں زبردستی سونے کی تھوک اٹک گئی ہے
پہلے لقمہ پہ ہی جاگ جاتے ہیں
سوئے ہوئے بچے
آواز لیکن کیتلی میں ابلتے پتھروں کی تھی
گرتا ہے موت کا سایہ غافل لوگوں پر
جیسے ایک کائناتی پتھر زمین سے ٹکر کھاتا ہے
بچے سوتے میں کپکپی لیتے ہیں
روتے روتے بچے کو کبھی سلانا نہیں چاہیے
وہ اگل دیتا ہے کچی نیند بستر پر
اور کتے بھونکتے ہیں ایک جوڑے پر
جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا
پر کہیں ہے چھت پر
اسے بلی دیکھ لیتی ہے
لیکن صبح بتا نہیں سکتی
پتھر کیتلی میں پکتے نہیں ہیں
بچے نیند کو ماں کی چھاتیاں سمجھ کر چوس رہے ہیں
رات اپنے جوڑے کے ساتھ چھت پہ موجود ہے
زرد رو بلب خاموش ہو چکا ہے
احتراماً میں آنکھیں بند کر کے اس تاریکی کا حصہ بن جاتا ہوں
طاہر راجپوت
No comments:
Post a Comment