Thursday, 5 February 2026

دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

 دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا

کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا

مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا

اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ

اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا

یہی کہ آج پرندوں سے شام خالی ہے

یہی کہ موسم جاں کا بھی اعتبار ہے کیا

بہت دنوں سے طبیعت بجھی بجھی سی ہے

اگر ہے کچھ تو گھڑی دو گھڑی شمار ہے کیا


جاوید ناصر

No comments:

Post a Comment