رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح
آنکھوں سے اشک بہتے ہیں طوفان کی طرح
آندھی اڑا کے لے گئی مجھ کو ورق ورق
اور غم بہا کے لے گیا طوفان کی طرح
دیمک کی طرح گھیر لیا درد نے مجھے
مر کر بھی میں کھڑی ہوں سلیمان کی طرح
ایسے کہ جیسے مجھ کو وہ پہچانتا نہیں
گزرا قریب سے کسی انجان کی طرح
آ اے غمِ حیات! گلے سے لگا تو لوں
ہے زیست چند لمحوں کے مہمان کی طرح
حُسنٰی سکونِ دل کوئی مجھ کو ادھا ر دے
جلتی ہوں غم کی آگ میں شمشان کی طرح
حسنٰی سرور
No comments:
Post a Comment