Monday, 16 February 2026

رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح

 رہتا ہے دل میں درد بھی مہمان کی طرح

آنکھوں سے اشک بہتے ہیں طوفان کی طرح

آندھی اڑا کے لے گئی مجھ کو ورق ورق

اور غم بہا کے لے گیا طوفان کی طرح

دیمک کی طرح گھیر لیا درد نے مجھے

مر کر بھی میں کھڑی ہوں سلیمان کی طرح

ایسے کہ جیسے مجھ کو وہ پہچانتا نہیں

گزرا قریب سے کسی انجان کی طرح

آ اے غمِ حیات! گلے سے لگا تو لوں

ہے زیست چند لمحوں کے مہمان کی طرح

حُسنٰی سکونِ دل کوئی مجھ کو ادھا ر دے

جلتی ہوں غم کی آگ میں شمشان کی طرح


حسنٰی سرور

No comments:

Post a Comment