Monday, 16 February 2026

کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

 کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی

حقیقتوں کا واسطہ عجیب شے ہے زندگی

تِرا خیال دے گیا ہے آسرا کہیں کہیں

تِرا فراق حوصلے بڑھا گیا کبھی کبھی

اسی میں کچھ سکون ہے شعورِ غم کا ساتھ دیں

یہی خوشی کی بات ہے چلے چلیں خوشی خوشی

ہزار ٹوٹتے گئے طلسم روپ رنگ کے

مگر نہ چین سے رہا مِرا شعار بت گری

چمن میں کون دیکھیے سحر کی تاب لا سکے

یہ رات بھر کی اوس میں نہا گئی کلی کلی

ہے چاک گل کا ماجرا جراحتوں کا سلسلہ

وہ زخم پھر نہ بھر سکا گری جہاں سے پنکھڑی

شہاب نکتہ سنج نے رکھا ہے سینت سینت کے

سلیقۂ کلام کی جو ساکھ ہے رہی سہی


شہاب سرمدی

بلاغت حسین

No comments:

Post a Comment