Saturday, 28 February 2026

خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

 خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

آباد ہے اب کتنا ویرانۂ تنہائی

ایسے بھی مراحل کچھ آئے رہ ہستی میں

محسوس ہوا منزل خود پاس چلی آئی

تو شمع مسرت ہے غم خانۂ امکاں میں

دم سے ترے قائم ہے ہر بزم کی رعنائی

ہے یاد تری کیا کیا مائل بہ کرم مجھ پر

گزرے ہوئے لمحوں کو جو ساتھ لیے آئی

پگھلے ہوئے سونے سے ابھریں کئی تصویریں

دریا کے کناروں پر جب دھوپ اتر آئی

اس گلشن ہستی کا ہر رنگ نرالا ہے

جب رونے لگی شبنم پھولوں کو ہنسی آئی


کرشن مراری سہگل

No comments:

Post a Comment