میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے
جب سے خوشیاں دینے والے یار ہجرت کر گئے
صحن کی دیوار کا دکھ یوں پرندوں نے لیا
چھوڑ کر گھر میں لگے اشجار ! ہجرت کر گئے
ایک ہجرت لازمی ہے دن بدلنے کے لیے
اس لیے ہم زندگی کے پار ہجرت کر گئے
یہ ہماری عاجزی ہے: زندگی ہو ، موت ہو
ہم خدا کے حکم پر ہر بار ہجرت کر گئے
دیکھنے والوں نے دیکھا زندگی کے کھیل سے
کیسے کیسے خوشنما فنکار ہجرت کر گئے
اب تو بس الفاظ لائے جا رہے ہیں بحر میں
شاعری سے اس لیے افکار ہجرت کر گئے
پوچھنے ہیں ہجرتوں کے دکھ اگر تو ہم سے پوچھ
ایک جیون کے لیے دو بار ہجرت کر گئے
رحمتِ سرکار سے محروم مکہ ہو گیا
جب مدینے کی طرف سرکار ہجرت کر گئے
مجھ کو اپنے ضبط پر اکمل بڑا ہی مان تھا
اشک، غم کی دیکھ کر یلغار ہجرت کر گئے
اکمل حنیف
No comments:
Post a Comment