Sunday, 22 February 2026

میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے

 میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے

جب سے خوشیاں دینے والے یار ہجرت کر گئے

صحن کی دیوار کا دکھ یوں پرندوں نے لیا

چھوڑ کر گھر میں لگے اشجار ! ہجرت کر گئے

ایک ہجرت لازمی ہے دن بدلنے کے لیے

اس لیے ہم زندگی کے پار ہجرت کر گئے

یہ ہماری عاجزی ہے: زندگی ہو ، موت ہو

ہم خدا کے حکم پر ہر بار ہجرت کر گئے

دیکھنے والوں نے دیکھا زندگی کے کھیل سے

کیسے کیسے خوشنما فنکار ہجرت کر گئے

اب تو بس الفاظ لائے جا رہے ہیں بحر میں

شاعری سے اس لیے افکار ہجرت کر گئے

پوچھنے ہیں ہجرتوں کے دکھ اگر تو ہم سے پوچھ

ایک جیون کے لیے دو بار ہجرت کر گئے

رحمتِ سرکار سے محروم مکہ ہو گیا

جب مدینے کی طرف سرکار ہجرت کر گئے

مجھ کو اپنے ضبط پر اکمل بڑا ہی مان تھا

اشک، غم کی دیکھ کر یلغار ہجرت کر گئے


اکمل حنیف

No comments:

Post a Comment