بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت
میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں
جو ماں کی آخری نشانی ہے
جس میں کچھ چیزیں ہیں
ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے
ایک تصویر جو میری نہیں
ایک زنجیر جو قید خانے میں
میرے پاؤں کی محافظ تھی
اور ایک ڈائری بھی
جس میں محبتوں کی نظمیں لکھی ہیں
بوڑھے مرد کی جوان عورت سے محبت
پہرا دیتے کتے کی شاہراہ سے محبت
پیڑ کی آخری پتے سے محبت
بھنور میں پھنسی کشتی کی ساحل سے محبت
سوکھے پھول کی کتاب سے محبت
کھڑکی پر دستک دیتی بارش کی محبت
میں صندوق اٹھائے چلتا رہوں گا
جب تک کوئی قبرستان نہیں آتا
میں اسے لا وارث قبر میں دفن کر
فاتحہ پڑھے بغیر لوٹ آؤں گا
صندوق کے پھٹ پڑنے کے ڈر سے
حفیظ تبسم
No comments:
Post a Comment