Wednesday, 11 February 2026

میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

 بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت


میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

جو ماں کی آخری نشانی ہے

جس میں کچھ چیزیں ہیں

ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے

ایک تصویر جو میری نہیں

ایک زنجیر جو قید خانے میں

میرے پاؤں کی محافظ تھی

اور ایک ڈائری بھی

جس میں محبتوں کی نظمیں لکھی ہیں

بوڑھے مرد کی جوان عورت سے محبت

پہرا دیتے کتے کی شاہراہ سے محبت

پیڑ کی آخری پتے سے محبت

بھنور میں پھنسی کشتی کی ساحل سے محبت

سوکھے پھول کی کتاب سے محبت

کھڑکی پر دستک دیتی بارش کی محبت

میں صندوق اٹھائے چلتا رہوں گا

جب تک کوئی قبرستان نہیں آتا

میں اسے لا وارث قبر میں دفن کر

فاتحہ پڑھے بغیر لوٹ آؤں گا

صندوق کے پھٹ پڑنے کے ڈر سے


حفیظ تبسم 

No comments:

Post a Comment