Sunday, 8 February 2026

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

 لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر

میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر

مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا

پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر

روح بے تاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

کس نئے لہجے میں اب روح کا اظہار کروں

سانس بھی چلتی ہے احساس کا خنجر لے کر

یہ غلط ہے کہ میں پہچان گنوا بیٹھا ہوں

دار تک میں ہی گیا حرف مکرر لے کر

معجزے ہم سے بھی ہوتے ہیں پیمبر کی طرح

ہم نے معبود تراشے، فن آذر لے کر

خودکشی کرنے چلا ہوں مجھے روکو طارق

زخم احساس میں چبھتے ہوئے نشتر لے کر


شمیم طارق

No comments:

Post a Comment