Saturday, 28 February 2026

ساحل پہ کیا ہے بحر کے اندر تلاش کر

 ساحل پہ کیا ہے بحر کے اندر تلاش کر

گہرائیوں میں ڈوب کے گوہر تلاش کر

جس میں حیات بخش نظارا دکھائی دے

گلزار زندگی میں وہ منظر تلاش کر

دیتے ہیں اب صدا تجھے مریخ و ماہتاب

کیا کیا ہیں ان کی گود میں جا کر تلاش کر

مٹ جائے جس کے نور سے ظلمت حیات کی

ایسا کوئی چراغ منور تلاش کر

طوفان بحر زیست میں کشتی نہ غرق ہو

اے نا خدا! پناہ کا لنگر تلاش کر

جس دائرے میں دوڑ لگاتا رہا ہے تُو

اس دائرے کے دور کا محور تلاش کر

کوثر ہو تجھ کو خود سے جو ملنے کی آرزو

اپنے کو اپنے آپ میں کھو کر تلاش کر


کوثر سیوانی

No comments:

Post a Comment