Sunday, 1 March 2026

منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے

 منظر یہ دیکھ کر سبھی حیران ہو گئے

بھائی جب آج دست و گریبان ہو گئے

ماں باپ چاہتے تھے رہیں اتفاق سے

قربان ان کے آج سب ارمان ہو گئے

بلبل نے میرے ہاتھ میں کلہاڑا دیکھ کر

کہنے لگا یہ باغ اب ویران ہو گئے

انسان کے سنورنے کا موقع ہیں حادثے

ہم حادثوں سے پختہِ ایمان ہو گئے

بے چین بے قرار در کیفیّتِ جنوں

ہم دیکھتے ہی صورتِ جانان ہو گئے

ہم کو ملی ہیں شہرتیں ناکام عشق سے

ہم ہر زبانِ عام کے عنوان ہو گئے

دیکھا ہے ہم نے آج پھر نظّارہ دلفریب

ہم بے ارادہ آج پھر قربان ہو گئے

جن میں محبتوں کے ہمیں گل کھلانے تھے

رنگین خونِ دل سے وہ گلدان ہو گئے

ٹھوکر تھی میرے یار کی تمغائے امتیاز

ہم سنگِ راہ سے دیکھیے مرجان ہو گئے

آتا تھا رشک شاعروں کے شعر پر کبھی

لو آج ہم بھی صاحبِ دیوان ہو گئے

کیا خوب شعر آپ کے کیا خوب ہے بیان

ہم کم سخن شناس بھی حیران ہو گئے

کم ظرف، بے ایمان، بے رحم و بے وفا

حامیؔ تمہارے شہر کے انسان ہو گئے


سردار حمادؔ منیر

No comments:

Post a Comment