چھپ سکی نہ دل کی بات آپ کے چھپانے سے
کچھ نظر سے سمجھے ہم، کچھ نظر چرانے سے
ترکِ دوستداری کا کیا گلہ کہ وہ بھی ایک
رسم تھی زمانے کی اٹھ گئی زمانے سے
اس خوشی کو لے کر بھی کیا کرے گا دیوانے
جس خوشی کی راہوں میں غم نہیں زمانے سے
درد اک اذیت ہے چارہ گر سہی لیکن
کچھ تڑپ تو لیتا ہوں میں اسی بہانے سے
ہم کو کیا خبر ناطق کون تھا کہاں کا تھا
ڈھونڈئے زمانے میں پوچھئے زمانے سے
ناطق مالوی
No comments:
Post a Comment