Tuesday, 31 March 2026

چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

 چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

یہ مناسب نہیں ہے، آدمی کے لیے

پیار سے بھی ضروری کئی بات ہیں

پیار سب کچھ نہیں ہے، زندگی کے لیے

دل کو بے مول بیچو نہ جذبات میں

قدر باقی رہے، آدمی کے لیے

خود کو کھونا بھی لازم نہیں عشق میں

یہ بھی اک موت ہے، عاشقی کے لیے

جو ترا درد ہے، وہ دوا بھی تو کر

کیا فقط رو رہا ہے تری بے بسی کے لیے

عشق وہ ہو، جو کھو دے نہ خود کا شعور

ورنہ پاگل ہی رہ جائے گا ہر کسی کے لیے

کیا خسارہ ہے، رشتہ بچانے میں بھی؟

کب تلک روٹھتے رہنا انا کے لیے؟

آخرش جیت وہی ہے جو خود کو بچائے

نہ کہ جو مر مٹے بے دلی کے لیے

عقل سے بھی تو کچھ کام لینا پڑے

بس نہ چلتا رہے، روشنی کے لیے

اب جمیل اتنا کہہ دے زمانے کو بس

خود کو بیچوں نہ میں شاعری کے لیے


جمیل اجمیری

No comments:

Post a Comment