Tuesday, 31 March 2026

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

 یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا

موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ

یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا

اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود

یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا

کب تک تلاش کیجیے آسودہ حالیاں

افسردہ ماہ و سال تمہیں کون دے گیا

دل کے قریب ہجر کی رت خیمہ زن ہوئی

تہنیت وصال تمہیں کون دے گیا

مفقود ہو گئی ہیں یہاں لب کشائیاں

یہ ڈھیر بھر سوال تمہیں کون دے گیا

رعنائیوں کے لب پہ مکرر سوال ہے

بے عیب خد و خال تمہیں کون دے گیا


سید قیصر قلندر

No comments:

Post a Comment