Thursday, 26 March 2026

گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے

 گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے

وہ میری قبر پہ آئے ہیں آج بن ٹھن کے

چرا کے لے گیا میری وہ زندگی کی کتاب

بڑے خلوص سے صدقے اتارے رہزن کے

وہ ہم سے مانگ رہے ہیں ثبوت حب وطن

بزرگ جن کے تھے پنشن گزار لندن کے

محبتوں کی سحر بن گئی ہے شام نفاق

لکیر کھینچ کے ٹکڑے کئے ہیں آنگن کے

وہ جنکو پیار تھا سونے سے کھو گئے کب کے

چکا نہ پایا ابھی تک میں دام کنگن کے

وہ میری شکل مجھے سونپ کیوں نہیں دیتا

مسعود ناز میں کب تک اٹھاؤں درپن کے


مسعود ظہیر نقوی

No comments:

Post a Comment