گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے
وہ میری قبر پہ آئے ہیں آج بن ٹھن کے
چرا کے لے گیا میری وہ زندگی کی کتاب
بڑے خلوص سے صدقے اتارے رہزن کے
وہ ہم سے مانگ رہے ہیں ثبوت حب وطن
بزرگ جن کے تھے پنشن گزار لندن کے
محبتوں کی سحر بن گئی ہے شام نفاق
لکیر کھینچ کے ٹکڑے کئے ہیں آنگن کے
وہ جنکو پیار تھا سونے سے کھو گئے کب کے
چکا نہ پایا ابھی تک میں دام کنگن کے
وہ میری شکل مجھے سونپ کیوں نہیں دیتا
مسعود ناز میں کب تک اٹھاؤں درپن کے
مسعود ظہیر نقوی
No comments:
Post a Comment