Tuesday, 24 March 2026

جیسے جیسے آگہی آرامِ جاں ہوتی گئی

 جیسے جیسے آگہی آرامِ جاں ہوتی گئی

ویسے ویسے اپنی لا علمی عیاں ہوتی گئی

رمزِ فطرت گر کوئی پا بھی گیا اہلِ نظر

کب وہ اس اہلِ نظر سے بھی بیاں ہوتی گئی

اٹھ گئے جب بھی مخالف مردِ صادق کے خلاف

خود صداقت اٹھ کے اس کی پاسباں ہوتی گئی

جتنی شدت سے رہے کوشاں مخالف پائمالی پر

اتنی محبوبِ جہاں اردو زباں ہوتی گئی

سرفروشی اپنے آباء کی تعصب کے طفیل

حیف کہ اک بھولی بسری داستاں ہوتی گئی


ملک تاسے

No comments:

Post a Comment