عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر اک زباں پر ورد ہے آقاﷺ تِرا
کیسے نہ کرتا یا نبیﷺ چرچا ترا
قسمت زرا وہ دیکھیں حاجی بنے
جو چوم کر آئے حسیں روضہ ترا
صدیقؓ ہو عثمانؓ وہ حضرت علیؓ
پھر ہو گیا حضرت عمرؓ شیدا ترا
کہتے رہے گستاخ ہم جیسا نبیﷺ
ہرگز گھٹا سکتے نہیں رتبہ ترا
حضرت حلیمہ سے کبھی وہ پوچھتے
جس نے کبھی دیکھا نہیں سایہ ترا
اس شخص کے غم مٹ گئے سارے سبھی
نعلین کو آنکھوں سے جو چوما ترا
قسمت سنورتے ہی رہے بگڑے سبھی
خیرات جن کو مل گیا صدقہ ترا
وہ مسجدِ اقصیٰ نشانی طور پر
ہے معجزہ بےشک شبِ اسرا ترا
دل بھی مدینہ اب مِرے آقاﷺ بنا
اب دیکھ لے انجم سفر جلوہ ترا
سفر ندیم انجم زہری
No comments:
Post a Comment