Monday, 23 March 2026

چند لفظوں کے جال میں رکھا

 چند لفظوں کے جال میں رکھا

دل کو رنج و ملال میں رکھا

غم کا سایا بھی اس نے اک لا کر

نظم روز وصال میں رکھا

جو بھی ہم نے جواب میں چاہا

اس کو اپنے سوال میں رکھا

زندگی کو بھی ہم نے دعوت دی

موت کو بھی خیال میں رکھا

جو انا تھی وہ طاق پر رکھی

خود کو اس کے جلال میں رکھا

جو بھی جذبہ اچھالنا چاہا

وہ غزل کے جمال میں رکھا


منموہن عالم

No comments:

Post a Comment