اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک
مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم
تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں
فلک پہ کالی گھٹائیں، زمیں پہ سیلِ رواں
اگر یہ اشک کی چھم چھم نہیں تو کچھ بھی نہیں
اجل نے ان کو مٹایا ہے مثلِ حرفِ غلط
جنہیں گمان گر ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
نواز کمال
No comments:
Post a Comment