Tuesday, 10 March 2026

جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا

 جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا

داد ہنر کے نام پہ زخم ہنر ملا

خود اپنے سر پہ اپنی صلیبیں اٹھا چلو

آوارگان شہر کو کارِ دِگر ملا

انعام قد کی نشو و نما سے مُکر گیا

دستار تو ملی ہے مگر کس کو سر ملا

تم مل سکے نہ ترکِ تعلق کے بعد پھر

یادوں کا اک ہجوم مجھے عمر بھر ملا

میرے دل تباہ نے سو سو جتن کیے

جو نسخۂ وفا بھی ملا بے اثر ملا

تم جس قدر غرور سے نشہ بہ سر ملے

ہاں اتنے ہی خلوص سے میں سر بہ سر ملا


وسیم فرحت علیگ

No comments:

Post a Comment