بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے
دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈتا رہتا ہے
خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو
سننے والا گویا ڈھونڈتا رہتا ہے
شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں
میرا غم تو صحرا ڈھونڈتا رہتا ہے
اس نے اپنی منزل حاصل کر لی ہے
پھر کیوں گھر کا رستہ ڈھونڈتا رہتا ہے
دل سب سے ملتا ہے ہلکے لہجے میں
سب میں کچھ کچھ تجھ سا ڈھونڈتا رہتا ہے
بیچ دیا گلدان وراثت کا اس نے
بھائی مِرا اب گملا ڈھونڈتا رہتا ہے
جیب میں دل تھیلے میں پتھر لے کر عرش
شہر کوئی دیوانہ ڈھونڈتا رہتا ہے
وجے شرما عرش
No comments:
Post a Comment