Wednesday, 11 March 2026

بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے

 بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے

دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈتا رہتا ہے

خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو

سننے والا گویا ڈھونڈتا رہتا ہے

شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں

میرا غم تو صحرا ڈھونڈتا رہتا ہے

اس نے اپنی منزل حاصل کر لی ہے

پھر کیوں گھر کا رستہ ڈھونڈتا رہتا ہے

دل سب سے ملتا ہے ہلکے لہجے میں

سب میں کچھ کچھ تجھ سا ڈھونڈتا رہتا ہے

بیچ دیا گلدان وراثت کا اس نے

بھائی مِرا اب گملا ڈھونڈتا رہتا ہے

جیب میں دل تھیلے میں پتھر لے کر عرش

شہر کوئی دیوانہ ڈھونڈتا رہتا ہے


وجے شرما عرش

No comments:

Post a Comment