غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی
یہاں کس نے کس کی مدارات کی
گُھٹن کیوں نہ محسوس ہو شہر میں
ہوا چل پڑی ہے مضافات کی
نظر اس کو میں آتا ہوں ٹھیک ٹھاک
اسے کیا خبر میرے حالات کی
غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی
یہاں کس نے کس کی مدارات کی
گُھٹن کیوں نہ محسوس ہو شہر میں
ہوا چل پڑی ہے مضافات کی
نظر اس کو میں آتا ہوں ٹھیک ٹھاک
اسے کیا خبر میرے حالات کی
شہرِ غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں
ایک اندیشۂ شبخوں ہے کہ سب جاگتے ہیں
شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہدِ سکوت
حرفِ اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں
راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ
کچھ ستارے جو سرِ قریۂ شب جاگتے ہیں
کچھ یوں بھی مجھے راس ہیں تنہائیاں اپنی
رہتی ہیں جلو میں مِرے پرچھائیاں اپنی
مشہور یہی لوگ کبھی اہلِ نظر تھے
اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں جو بینائیاں اپنی
اپنا ہی سہارا تھا سرِ معرکۂ ذات
کس کام کی تھیں ورنہ صف آرائیاں اپنی
جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں
کوئی سنے نہ سنے میں پکارتا جاؤں
مٹا چکا ہوں جسے اپنے صفحۂ دل سے
غزل غزل وہی چہرہ اُبھارتا جاؤں
نجانے میرے تعاقب میں کون کون آئے
میں اپنے نقشِ کفِ پا اُبھارتا جاؤں
کسی کی جیت کا صدمہ کسی کی مات کا بوجھ
کہاں تک اور اٹھائیں تعلقات کا بوجھ
انا کا بوجھ بھی آیا اسی کے حصے میں
بہت ہے جس کے اٹھانے کو اپنی ذات کا بوجھ
جھٹک دیا ہے کبھی سر سے بارِ ہستی بھی
اٹھا لیا ہے کبھی سر پہ کائنات کا بوجھ