Showing posts with label راشد مفتی. Show all posts
Showing posts with label راشد مفتی. Show all posts

Sunday, 4 July 2021

غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی

 غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی

یہاں کس نے کس کی مدارات کی

گُھٹن کیوں نہ محسوس ہو شہر میں

ہوا چل پڑی ہے مضافات کی

نظر اس کو میں آتا ہوں ٹھیک ٹھاک

اسے کیا خبر میرے حالات کی

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

 شہرِ غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

ایک اندیشۂ شبخوں ہے کہ سب جاگتے ہیں

شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہدِ سکوت

حرفِ اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں

راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ

کچھ ستارے جو سرِ قریۂ شب جاگتے ہیں

Saturday, 3 July 2021

کچھ یوں بھی مجھے راس ہیں تنہائیاں اپنی

 کچھ یوں بھی مجھے راس ہیں تنہائیاں اپنی

رہتی ہیں جلو میں مِرے پرچھائیاں اپنی

مشہور یہی لوگ کبھی اہلِ نظر تھے

اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں جو بینائیاں اپنی

اپنا ہی سہارا تھا سرِ معرکۂ ذات

کس کام کی تھیں ورنہ صف آرائیاں اپنی

Saturday, 19 June 2021

جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں

 جو قرض مجھ پہ ہے وہ بوجھ اتارتا جاؤں

کوئی سنے نہ سنے میں پکارتا جاؤں

مٹا چکا ہوں جسے اپنے صفحۂ دل سے

غزل غزل وہی چہرہ اُبھارتا جاؤں

نجانے میرے تعاقب میں کون کون آئے

میں اپنے نقشِ کفِ پا اُبھارتا جاؤں

Wednesday, 28 April 2021

کسی کی جیت کا صدمہ کسی کی مات کا بوجھ

 کسی کی جیت کا صدمہ کسی کی مات کا بوجھ

کہاں تک اور اٹھائیں تعلقات کا بوجھ

انا کا بوجھ بھی آیا اسی کے حصے میں

بہت ہے جس کے اٹھانے کو اپنی ذات کا بوجھ

جھٹک دیا ہے کبھی سر سے بارِ ہستی بھی

اٹھا لیا ہے کبھی سر پہ کائنات کا بوجھ