Sunday, 4 July 2021

غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی

 غنیمت ہے ہنس کر اگر بات کی

یہاں کس نے کس کی مدارات کی

گُھٹن کیوں نہ محسوس ہو شہر میں

ہوا چل پڑی ہے مضافات کی

نظر اس کو میں آتا ہوں ٹھیک ٹھاک

اسے کیا خبر میرے حالات کی

ہمیں آج حق سے بھی محروم ہیں

ہمیں پر تھی بارش مراعات کی

مقدر تو میرا سنوارو گے کیا

لکیریں مٹا دو مِرے ہات کی

زیاں ہی زیاں ہے فقط نفی میں

کوئی اور صورت کر اثبات کی

مکمل نہیں یوں تو کوئی وجود

کمی مجھ میں ہے کون سی بات کی


راشد مفتی

No comments:

Post a Comment