یہ مرحلہ بھی محبت میں تھا عبور کیا
کہ خود کو جوڑنے بیٹھے تو چور چور کیا
یقین جان، وہی شخص ہم کو لے ڈُوبا
جسے بھی سر پہ بٹھایا جسے حضور کیا
ہے اوندھے منہ پڑا آج داستانوں میں
زمیں پہ چلتے ہوئے جس نے بھی غرور کیا
کلیم بن کے تِری معجزاتی آنکھوں نے
ہے جس پہاڑ کو دیکھا اسے ہی طور کیا
بس ایک دانۂ گندم سبھی کو لے ڈُوبا
سزا کسے ہے ملی کس نے تھا قصور کیا
مقدس ملک
No comments:
Post a Comment