Showing posts with label شاد مردانوی. Show all posts
Showing posts with label شاد مردانوی. Show all posts

Wednesday, 5 July 2023

تمہیں تو اب بھی لگے ہے کہ کچھ ہوا ہی نہیں

 تمہیں تو اب بھی لگے ہے کہ کچھ ہُوا ہی نہیں

تو جھانک دیکھ ذرا مجھ میں کچھ رہا ہی نہیں

میں گنگناؤں تو کس دُھن پہ گنگناؤں اسے

وہ سازِ زیست، وہ لَے اور وہ فضا ہی نہیں

میں مر چکا ہوں بہت پہلے راکھ ہو بھی چکا

تمہارے شہر کی آتی یہاں ہوا ہی نہیں

Wednesday, 22 December 2021

خسیس خصلت بہت ہی ظالم شدید دکھ ہے

 خسیس خصلت، بہت ہی ظالم، شدید دُکھ ہے

یہ عشق کربل، شمر ہے ہجراں، یزید دکھ ہے

نہ ہچکی آئی نہ آنکھ ہی میری پھڑپھڑائی

میں رفتہ رفتہ سہن کروں گا جدید دکھ ہے

میں اپنے حصے میں ایک لمحہ کبھی نہ آیا

اور اس پہ میرا یہ مسکرانا، مزید دکھ ہے 

Sunday, 25 April 2021

کبھی جب روبرو بیٹھا کریں گے

 کبھی جب روبرو بیٹھا کریں گے

ستارے تاک کر مارا کریں گے

گئی گزری اُمیدیں پیش کر کے

عطا کو روز شرمندہ کریں گے

یوں ہی پیدل سفر ماضی کا اکثر

کسی جنگل میں اک رستہ کریں گے

Tuesday, 6 April 2021

خاک زادہ ہو تو افلاک بہ سر ہو جائے

 خاک زادہ ہو تو افلاک بہ سر ہو جائے

"جس پہ سرکار کی سیرت کا اثر ہو جائے" 

نور تسنیم میں مل جائے تِری یاد کے وقت

گوشۂ چشم اگر ساتھ میں تر ہو جائے

ڈوبتے شمس پہ گر اسمِ محمدﷺ پھونکوں

عین ممکن ہے کہ دو بارہ سحر ہو جائے

Saturday, 3 April 2021

شاہوں کا شاہ عشق ہے صدر صدور عشق

 شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدرِ صدور عشق

دربارِ دل میں تخت نشیں ہے حضور عشق

اس حسنِ خوش ادا کی تجلی میں یوں لگا

موسیٰ ہوں لے گیا ہے سرِ کوہِ طور عشق

اس بار سامنا تھا سلیمان کا تجھے

بلقیس اب کہ ہونا تھا تجھ کو ضرور عشق

کسی کا لوٹ کے آنا سہارا تھوڑی ہے

 کسی کا لوٹ کے آنا سہارا تھوڑی ہے

یہ دردِ سر ہے ہمارا تمہارا تھوڑی ہے

جو ہو سکے تو سمندر مثال ہو جاؤ

دو چار جام پہ اپنا گزارا تھوڑی ہے

میں اپنی آنکھ کہیں گھر میں چھوڑ آیا ہوں

یہ فائدہ ہے سراسر خسارہ تھوڑی ہے

Friday, 2 April 2021

خراج حسن دینے سے کوئی رسوا نہیں ہوتا

 خراجِ حسن دینے سے کوئی رُسوا نہیں ہوتا

خسارہ دل کا ہوتا ہے مگر اتنا نہیں ہوتا

تباہی، درد و بربادی، عذاب و شوق و بیداری

جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا کیا نہیں ہوتا

جو آنکھیں بام پر رکھی ہیں وہ آنکھیں ہماری ہیں

جو اکثر رُوٹھ جاتا ہے وہ دل اپنا نہیں ہوتا