تمہیں تو اب بھی لگے ہے کہ کچھ ہُوا ہی نہیں
تو جھانک دیکھ ذرا مجھ میں کچھ رہا ہی نہیں
میں گنگناؤں تو کس دُھن پہ گنگناؤں اسے
وہ سازِ زیست، وہ لَے اور وہ فضا ہی نہیں
میں مر چکا ہوں بہت پہلے راکھ ہو بھی چکا
تمہارے شہر کی آتی یہاں ہوا ہی نہیں
تمہیں تو اب بھی لگے ہے کہ کچھ ہُوا ہی نہیں
تو جھانک دیکھ ذرا مجھ میں کچھ رہا ہی نہیں
میں گنگناؤں تو کس دُھن پہ گنگناؤں اسے
وہ سازِ زیست، وہ لَے اور وہ فضا ہی نہیں
میں مر چکا ہوں بہت پہلے راکھ ہو بھی چکا
تمہارے شہر کی آتی یہاں ہوا ہی نہیں
خسیس خصلت، بہت ہی ظالم، شدید دُکھ ہے
یہ عشق کربل، شمر ہے ہجراں، یزید دکھ ہے
نہ ہچکی آئی نہ آنکھ ہی میری پھڑپھڑائی
میں رفتہ رفتہ سہن کروں گا جدید دکھ ہے
میں اپنے حصے میں ایک لمحہ کبھی نہ آیا
اور اس پہ میرا یہ مسکرانا، مزید دکھ ہے
کبھی جب روبرو بیٹھا کریں گے
ستارے تاک کر مارا کریں گے
گئی گزری اُمیدیں پیش کر کے
عطا کو روز شرمندہ کریں گے
یوں ہی پیدل سفر ماضی کا اکثر
کسی جنگل میں اک رستہ کریں گے
خاک زادہ ہو تو افلاک بہ سر ہو جائے
"جس پہ سرکار کی سیرت کا اثر ہو جائے"
نور تسنیم میں مل جائے تِری یاد کے وقت
گوشۂ چشم اگر ساتھ میں تر ہو جائے
ڈوبتے شمس پہ گر اسمِ محمدﷺ پھونکوں
عین ممکن ہے کہ دو بارہ سحر ہو جائے
شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدرِ صدور عشق
دربارِ دل میں تخت نشیں ہے حضور عشق
اس حسنِ خوش ادا کی تجلی میں یوں لگا
موسیٰ ہوں لے گیا ہے سرِ کوہِ طور عشق
اس بار سامنا تھا سلیمان کا تجھے
بلقیس اب کہ ہونا تھا تجھ کو ضرور عشق
کسی کا لوٹ کے آنا سہارا تھوڑی ہے
یہ دردِ سر ہے ہمارا تمہارا تھوڑی ہے
جو ہو سکے تو سمندر مثال ہو جاؤ
دو چار جام پہ اپنا گزارا تھوڑی ہے
میں اپنی آنکھ کہیں گھر میں چھوڑ آیا ہوں
یہ فائدہ ہے سراسر خسارہ تھوڑی ہے
خراجِ حسن دینے سے کوئی رُسوا نہیں ہوتا
خسارہ دل کا ہوتا ہے مگر اتنا نہیں ہوتا
تباہی، درد و بربادی، عذاب و شوق و بیداری
جہاں پر تم نہیں ہوتے وہاں کیا کیا نہیں ہوتا
جو آنکھیں بام پر رکھی ہیں وہ آنکھیں ہماری ہیں
جو اکثر رُوٹھ جاتا ہے وہ دل اپنا نہیں ہوتا