Saturday, 3 April 2021

شاہوں کا شاہ عشق ہے صدر صدور عشق

 شاہوں کا شاہ عشق ہے، صدرِ صدور عشق

دربارِ دل میں تخت نشیں ہے حضور عشق

اس حسنِ خوش ادا کی تجلی میں یوں لگا

موسیٰ ہوں لے گیا ہے سرِ کوہِ طور عشق

اس بار سامنا تھا سلیمان کا تجھے

بلقیس اب کہ ہونا تھا تجھ کو ضرور عشق

صحرا نوردیوں میں کھپاتا ہے قیس کو

کچّے گھڑے پہ کرتا ہے دریا عبور عشق

تیرے دماغ کا بھی زلیخا یہی خلل

یوسف کا تجھ سے سارا کا سارا نفور عشق

فرہاد!! تیرے ہاتھ کا تیشہ یہی تو ہے

شیریں تجھے بھی کر گیا ہے چور چور عشق

کیسے عظیم لوگ جواں مرگ ہو گئے

پھر بھی یہ واقعہ کہہ رہا بے قصور عشق

اپنی تو شاد سُدھ بھی گئی بُدھ بھی عشق میں

اپنا تو عشق، عشق ہے، اپنی تو حور عشق


شاد مردانوی

No comments:

Post a Comment