دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی
خشک آنکھوں کی گلی آج سے پہلے تو نہ تھی
شاخِ امید مہکتی سی نظر آتی ہے
چارہ سازی یہ تِری آج سے پہلے تو نہ تھی
دشتِ آوارگی یہ تیرا کرم ہے، ورنہ
اپنی یہ دربدری آج سے پہلے تو نہ تھی
دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی
خشک آنکھوں کی گلی آج سے پہلے تو نہ تھی
شاخِ امید مہکتی سی نظر آتی ہے
چارہ سازی یہ تِری آج سے پہلے تو نہ تھی
دشتِ آوارگی یہ تیرا کرم ہے، ورنہ
اپنی یہ دربدری آج سے پہلے تو نہ تھی
کنجِ تنہائی میں دل بستا ہوا
آپ اپنے جال میں پھنستا ہوا
طاقچوں پر خامشی حیرت زدہ
آئینے میں عکسِ جاں ہنستا ہوا
گل سمے کی بازگشت ہوتی ہوئی
عشق کے دلدل میں سر دھنستا ہوا
سعئ رائیگاں
وہ دیواریں
جو حائل ہیں
ہمارے درمیاں
انہیں معدوم کرنے کی
ہماری کوششیں
میرے دل میں جو ہے عیاں ہو گا
آج پھر درد بے کراں ہو گا
شب کا دار و مدار ہے جس پر
اس کی دھڑکن کا امتحاں ہو گا
ہم نے بازی گری کہاں کی ہے
ہم سے کیوں دور آسماں ہو گا
درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھُپا بھی نہ سکوں
بوجھ ایسا بھی نہیں ہے کہ اُٹھا بھی نہ سکوں
یوں سمائی ہے ان آنکھوں میں بتا بھی نہ سکوں
دل کی دیوار پہ تصویر سجا بھی نہ سکوں
خیریت پوچھتے رہتے ہو مگر حال یہ ہے
اس کی آواز میں آواز ملا بھی نہ سکوں
رنگ و خوشبو کے حوالے سے بتا دیتا ہے
پھول کھِلتا ہے تو کھِلنے کا پتا دیتا ہے
ایک سناٹا ہے نہ سایہ ہے نہ آہٹ کوئی
کون ایسے میں مجھے چھپ کے صدا دیتا ہے
اپنی انگلی سے وہ ہر روز نہ جانے کیا کیا
خاک پہ لکھتا ہے لکھ لکھ کے مٹا دیتا ہے