Showing posts with label ساجد حمید. Show all posts
Showing posts with label ساجد حمید. Show all posts

Tuesday, 16 November 2021

دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی

 دل کی یہ غم طلبی آج سے پہلے تو نہ تھی

خشک آنکھوں کی گلی آج سے پہلے تو نہ تھی

شاخِ امید مہکتی سی نظر آتی ہے

چارہ سازی یہ تِری آج سے پہلے تو نہ تھی

دشتِ آوارگی یہ تیرا کرم ہے، ورنہ

اپنی یہ دربدری آج سے پہلے تو نہ تھی

Monday, 8 November 2021

کنج تنہائی میں دل بستا ہوا

 کنجِ تنہائی میں دل بستا ہوا

آپ اپنے جال میں پھنستا ہوا

طاقچوں پر خامشی حیرت زدہ

آئینے میں عکسِ جاں ہنستا ہوا

گل سمے کی بازگشت ہوتی ہوئی

عشق کے دلدل میں سر دھنستا ہوا

Sunday, 7 November 2021

سعئ رائیگاں

 سعئ رائیگاں


وہ دیواریں

جو حائل ہیں

ہمارے درمیاں

انہیں معدوم کرنے کی

ہماری کوششیں

Saturday, 6 November 2021

میرے دل میں جو ہے عیاں ہو گا

 میرے دل میں جو ہے عیاں ہو گا

آج پھر درد بے کراں ہو گا

شب کا دار و مدار ہے جس پر

اس کی دھڑکن کا امتحاں ہو گا

ہم نے بازی گری کہاں کی ہے

ہم سے کیوں دور آسماں ہو گا

Thursday, 22 April 2021

درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں

 درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھُپا بھی نہ سکوں

بوجھ ایسا بھی نہیں ہے کہ اُٹھا بھی نہ سکوں

یوں سمائی ہے ان آنکھوں میں بتا بھی نہ سکوں

دل کی دیوار پہ تصویر سجا بھی نہ سکوں

خیریت پوچھتے رہتے ہو مگر حال یہ ہے

اس کی آواز میں آواز ملا بھی نہ سکوں

Wednesday, 24 March 2021

رنگ و خوشبو کے حوالے سے بتا دیتا ہے

 رنگ و خوشبو کے حوالے سے بتا دیتا ہے

پھول کھِلتا ہے تو کھِلنے کا پتا دیتا ہے

ایک سناٹا ہے نہ سایہ ہے نہ آہٹ کوئی

کون ایسے میں مجھے چھپ کے صدا دیتا ہے

اپنی انگلی سے وہ ہر روز نہ جانے کیا کیا

خاک پہ لکھتا ہے لکھ لکھ کے مٹا دیتا ہے