Thursday, 22 April 2021

درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھپا بھی نہ سکوں

 درد اتنا بھی نہیں ہے کہ چھُپا بھی نہ سکوں

بوجھ ایسا بھی نہیں ہے کہ اُٹھا بھی نہ سکوں

یوں سمائی ہے ان آنکھوں میں بتا بھی نہ سکوں

دل کی دیوار پہ تصویر سجا بھی نہ سکوں

خیریت پوچھتے رہتے ہو مگر حال یہ ہے

اس کی آواز میں آواز ملا بھی نہ سکوں

آ، مِرے پاس، ذرا سن کے بتا کہتی ہے کیا

دل کی دھڑکن جو سرِ عام سنا بھی نہ سکوں

جبر دیکھا تھا، مگر ایسا نہیں دیکھا تھا

ایسے پہرے ہیں کہ پلکیں میں اُٹھا بھی نہ سکوں

اُنگلیاں چاک ہوا کرتی تھیں پہلے ساجد

اب گئے ہاتھ کہ میں ہاتھ ملا بھی نہ سکوں


ساجد حمید

No comments:

Post a Comment