نجانے دشت کی تختی پہ کیا تحریر کرتی ہے
کوئی تو بات روز و شب ہوا تحریر کرتی ہے
اگر پاؤں میں ہمت ہو تو رستے بنتے جاتے ہیں
شکستہ پائی اپنا رہنما تحریر کرتی ہے
دلوں پر ثبت ہو جاتا ہے خد و خال کا منظر
تعارف جب نمائندہ ادا تحریر کرتی ہے
نصابِ گردشِ دوراں ہیں اوراقِ خزاں جن پر
کہانی نت نئی بادِ صبا تحریر کرتی ہے
سرِ لوحِ جہاں، مکتوبِ عبرت، خطِ روشن سے
بنامِ عہدِ آئندہ، فنا تحریر کرتی ہے
پکڑ لیتے ہیں ہم سید، زمامِ آب ہاتھوں میں
کہیں جب موجۂ خودسر انا تحریر کرتی ہے
شکستہ کشتیوں پر ہیں دریدہ بادباں سید
مگر پانی پہ خواہش راستا تحریر کرتی ہے
ستار سید
No comments:
Post a Comment