سراب ہے کہ نہیں کیوں جناب ہے کہ نہیں
ہماری زندگی مثلِ حباب ہے کہ نہیں
ہماری بات کا ناصح! جواب ہے کہ نہیں
گناہِ عشق پہ کوئی عذاب ہے کہ نہیں
سبق پڑھیں گے محبت کا تجھ سے پر یہ بتا
تِری کتاب میں سُوکھا گلاب ہے کی نہیں
سبق کیوں امن کا ہم ہی پڑھیں کتابوں میں
تمہارے پاس بھی کوئی کتاب ہے کہ نہیں
ملاوٹوں سے ہمیں ہے گریز اے ساقی
ہمارے واسطے خالص شراب ہے کہ نہیں
عذابِ دنیا سے مر کر تو چھُوٹ جائیں گے
جہاں میں جینا مسلسل عذاب ہے کہ نہیں
اے عشق! تُو نے مجھے جس طرح خراب کیا
مِری طرح سے کوئی اور خراب ہے کہ نہیں
لکھا ہے بابِ محبت میں پھر بھی بتلا تو
نگاہِ یار سے پینا ثواب ہے کہ نہیں
حدوں سے بڑھنے لگی سرکشی حسینوں کی
نئے زمانہ میں دانش! حجاب ہے کہ نہیں
حنیف دانش اندوری
No comments:
Post a Comment