اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے
جس جگہ پہنچنا تھا ہم وہاں نہیں پہنچے
ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم
دور ہو گئے تجھ سے جب تِرے قریں پہنچے
طائرِ طلب کی ہے ہر اڑان اس در تک
نا مراد دل کا ہر راستہ وہیں پہنچے
اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے
جس جگہ پہنچنا تھا ہم وہاں نہیں پہنچے
ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم
دور ہو گئے تجھ سے جب تِرے قریں پہنچے
طائرِ طلب کی ہے ہر اڑان اس در تک
نا مراد دل کا ہر راستہ وہیں پہنچے
یہ کمال بھی تو کم نہیں تِرا
ہر کسی نے کر لیا یقیں ترا
انتظار کر رہے ہیں دیر سے
اس اداس شہر کے مکیں ترا
ان دنوں پڑاؤ کس جگہ پہ ہے
آج کل ہے کون ہم نشیں ترا
زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر
موت آن بیٹھی ہے جا بجا مچانوں پر
ہم برائی کرتے ہیں ڈوبتے ہوئے دن کی
تہمتیں لگاتے ہیں جا چکے زمانوں پر
اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں
دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر
اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا
ہے تِرے کرم پر ہی انحصار اس گھر کا
ہر کواڑ ڈوبا ہے بے کراں اداسی میں
اور ہر دریچہ ہی سوگوار اس گھر کا
پھیلتی چلی جائے بیل بدگمانی کی
ختم ہی نہیں ہوتا انتشار اس گھر کا
موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی
تب کہیں نبھا پائی رسم راز داری کی
ہم ابھی ندامت کی قید سے نہیں نکلے
کاٹتے ہیں روز و شب فصل بے قراری کی
بھول ہی نہیں سکتے اے غمِ جہاں تُو نے
جس طرح پذیرائی عمر بھر ہماری کی