Showing posts with label اکرام مجیب. Show all posts
Showing posts with label اکرام مجیب. Show all posts

Sunday, 12 December 2021

اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے

 اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے

جس جگہ پہنچنا تھا ہم وہاں نہیں پہنچے

ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم

دور ہو گئے تجھ سے جب تِرے قریں پہنچے

طائرِ طلب کی ہے ہر اڑان اس در تک

نا مراد دل کا ہر راستہ وہیں پہنچے

Thursday, 9 December 2021

یہ کمال بھی تو کم نہیں ترا

 یہ کمال بھی تو کم نہیں تِرا

ہر کسی نے کر لیا یقیں ترا

انتظار کر رہے ہیں دیر سے

اس اداس شہر کے مکیں ترا

ان دنوں پڑاؤ کس جگہ پہ ہے

آج کل ہے کون ہم نشیں ترا

زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر

 زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر

موت آن بیٹھی ہے جا بجا مچانوں پر

ہم برائی کرتے ہیں ڈوبتے ہوئے دن کی

تہمتیں لگاتے ہیں جا چکے زمانوں پر

اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں

دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر

Wednesday, 8 December 2021

اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا

 اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا

ہے تِرے کرم پر ہی انحصار اس گھر کا

ہر کواڑ ڈوبا ہے بے کراں اداسی میں

اور ہر دریچہ ہی سوگوار اس گھر کا

پھیلتی چلی جائے بیل بدگمانی کی

ختم ہی نہیں ہوتا انتشار اس گھر کا

Monday, 22 March 2021

موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی

 موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی

تب کہیں نبھا پائی رسم راز داری کی

ہم ابھی ندامت کی قید سے نہیں نکلے

کاٹتے ہیں روز و شب فصل بے قراری کی

بھول ہی نہیں سکتے اے غمِ جہاں تُو نے

جس طرح پذیرائی عمر بھر ہماری کی