Monday, 22 March 2021

موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی

 موت سی خموشی جب ان لبوں پہ طاری کی

تب کہیں نبھا پائی رسم راز داری کی

ہم ابھی ندامت کی قید سے نہیں نکلے

کاٹتے ہیں روز و شب فصل بے قراری کی

بھول ہی نہیں سکتے اے غمِ جہاں تُو نے

جس طرح پذیرائی عمر بھر ہماری کی

کم ذرا نہ ہونے دی ایک لفظ حُرمت کی

ایک عہد کی ساری عمر پاسداری کی

سب انا پرستی کی مسندوں پہ ہیں فائز

سر کرے کڑی منزل کون خاکساری کی

پُر خطر رفاقت وہ جو مفاد کے تابع

سوچ بے ثمر اپنی ذات کے پجاری کی

ایک درد کی لذت بے قرار رکھنے کو

کچھ لطیف جذبوں کی خوں سے آبیاری کی


اکرام مجیب

No comments:

Post a Comment