پتہ رقیب کا دے جامِ جَم تو کیا ہو گا
وہ پھر اٹھائیں گے جھوٹی قسم تو کیا ہو گا
ادا سمجھتا رہوں گا تِرے تغافُل کو
طویل ہو گئی شامِ الم تو کیا ہو گا
جفا کی دھوپ میں گزری ہے زندگی ساری
وفا کے نام پہ جھیلیں گے غم تو کیا ہو گا
ابھی تو چرخِ ستم ہم پہ ڈھائے جاتا ہے
زمیں نہ ہو گی جو زیرِ قدم تو کیا ہو گا
میں ڈر رہا ہوں کہ زاہد کی خشک باتوں سے
سراب بن گیا باغِ ارم تو کیا ہو گا
خود اپنی موجِ نفس سے یہ زاہدانِ کام
بجھا رہے ہیں چراغِ حرم تو کیا ہو گا
ریاض الدین عطش
No comments:
Post a Comment