مجبور مشیّت
بہت گہرا ہے گرچہ دل پر الفت کا اثر پیاری
مگر قدرت نے مجھ سے چھین لی حسن بصر پیاری
مِری دنیائے عشرت پر اندھیرا چھا گیا یکسر
اب ان آنکھوں سے کچھ آتا نہیں مجھ کو نظر پیاری
میں اب بھٹکوں گا مستقبل کی ان تاریک راہوں میں
جہاں کام آ نہیں سکتا ہے کوئی راہبر پیاری
محبت کا تِری معترف ہوں، کیا کروں لیکن؟
نبھانے کی کوئی صورت نہیں آتی نظر پیاری
بن آئے کیا مشیت ہی جو محرومِ نظر کر دے
بھُلا دے اپنے دل سے مجھ کو قصہ مختصر کر دے
وقار انبالوی
ناظم علی
No comments:
Post a Comment