Monday, 22 March 2021

ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

 ہر ایک شام کا منظر دھواں اگلنے لگا

وہ دیکھو دور کہیں آسماں پگھلنے لگا

تو کیا ہوا جو میسر کوئی لباس نہیں؟

پہن کے دھوپ میں اپنے بدن پہ چلنے لگا

میں پچھلی رات تو بے چین ہو گیا اتنا

کہ اس کے بعد یہ دل خود بہ خود بہلنے لگا

عجیب خواب تھے شیشے کی کرچیوں کی طرح

جب ان کو دیکھا تو آنکھوں سے خوں نکلنے لگا

بنا کے دائرہ یادیں سمٹ کے بیٹھ گئیں

بوقت شام جو دل کا الاؤ جلنے لگا


امیر امام 

No comments:

Post a Comment