Monday, 22 March 2021

کچھ باتیں تھیں جو کہتے کہتے ہونٹوں پر بے جان ہوئیں

 کچھ باتیں تھیں، جو کہتے کہتے ہونٹوں پر بے جان ہوئیں 

کچھ آنکھیں تھیں، جو خوابوں سے ویران ہوئیں

کچھ خواب تھے، جن کو سچ ہونے کا سودا تھا 

کچھ دن تھے، جن میں جینے کا اک دھوکا تھا 

کچھ موسم تھے، جو ہم سے باتیں کرتے تھے 

کچھ وعدے تھے، جو کھُل جانے سے ڈرتے تھے

اک جیون تھا، اک آس تھی اس کے دامن میں

وہ جیون دُکھ میں ختم ہوا

اور آس سفر میں ٹُوٹ گئی 

سب جس کے دَم سے قائم تھا 

وہ دھوپ سنہری رُوٹھ گئی


ارشد ملک

No comments:

Post a Comment