Showing posts with label وفا نیازی. Show all posts
Showing posts with label وفا نیازی. Show all posts

Friday, 4 September 2026

ہر دل میں ترا سودا ہر آنکھ تمنائی

 ہر دل میں تِرا سودا ہر آنکھ تمنائی

اے زینت! ہر محفل، ہنگامۂ تنہائی

کعبے میں جسے ڈھوُنڈا بُتخانے میں ڈھونڈا تھا

مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی

شوخی ہے حیا پرور دُزدیدہ نگاہیں ہیں

سمجھے نہ کوئی اس کو اندازِ شناسائی

Sunday, 12 July 2026

دل کا عالم خراب دیکھا ہے

 "حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے"

دل کا عالم خراب دیکھا ہے

آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں

میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے

مست کر دے جو سارے عالم کو

وہ کسی کا شباب دیکھا ہے

Thursday, 9 October 2025

ہم کو واعظ نہ باغ ارم چاہیے

  ہم کو واعظ نہ باغ ارم چاہیے

ایک ان کی نگاہ کرم چاہیے

دہر ہو یا کہ کعبہ ہو بت خانہ ہو

کچھ بھی ہو مجھ کو اپنا صنم چاہیے

دل ہمیشہ ہی جس میں الجھتا رہے

ان کی زلفوں کے وہ پیچ و خم چاہیے

Sunday, 10 August 2025

وفاؤں کا مری اے کاش ان کو اعتبار آئے

 اگر زاہد تو محفل میں ہماری ایک بار آئے

اسی جانب کو پھر اٹھیں قدم بے اختیار آئے

جو آئے میکدے سے بے خود و مستانہ وار آئے

کہیں ایسا نہ ہو با ہوش کوئی بادہ خوار آئے

دل و ایماں و دیں ہوش و خرد کچھ بھی نہیں باقی

کسی کی ہم نگاہ ناز کا صدقہ اتار آئے

Friday, 8 August 2025

زخم دل کا ہو مداوا مجھے منظور نہیں

 زخمِ دل کا ہو مداوا مجھے منظور نہیں

زیست کا میری سہارا ہے یہ ناسور نہیں

مانگتا ہوں میں تجھے تجھ سے نیا ہے یہ سوال

بات رد کرنا گدا کی تیرا دستور نہیں

آپ آ جائیں دمِ نزع مجھے لینے کو

آپ کی شانِ کرم سے تو یہ کچھ دور نہیں

Thursday, 7 August 2025

گو سدا تم نے کج ادائی کی

 گو سدا تم نے کج ادائی کی

ہم نے ہر ظلم کی سمائی کی

دل کے دل میں رہے میرے ارماں

آ گئی عمر پارسائی کی

اس کے وعدے کا اعتبار کیا

جس کی عادت ہو بیوفائی کی