ہر دل میں تِرا سودا ہر آنکھ تمنائی
اے زینت! ہر محفل، ہنگامۂ تنہائی
کعبے میں جسے ڈھوُنڈا بُتخانے میں ڈھونڈا تھا
مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی
شوخی ہے حیا پرور دُزدیدہ نگاہیں ہیں
سمجھے نہ کوئی اس کو اندازِ شناسائی
ہر دل میں تِرا سودا ہر آنکھ تمنائی
اے زینت! ہر محفل، ہنگامۂ تنہائی
کعبے میں جسے ڈھوُنڈا بُتخانے میں ڈھونڈا تھا
مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی
شوخی ہے حیا پرور دُزدیدہ نگاہیں ہیں
سمجھے نہ کوئی اس کو اندازِ شناسائی
"حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے"
دل کا عالم خراب دیکھا ہے
آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں
میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے
مست کر دے جو سارے عالم کو
وہ کسی کا شباب دیکھا ہے
ہم کو واعظ نہ باغ ارم چاہیے
ایک ان کی نگاہ کرم چاہیے
دہر ہو یا کہ کعبہ ہو بت خانہ ہو
کچھ بھی ہو مجھ کو اپنا صنم چاہیے
دل ہمیشہ ہی جس میں الجھتا رہے
ان کی زلفوں کے وہ پیچ و خم چاہیے
اگر زاہد تو محفل میں ہماری ایک بار آئے
اسی جانب کو پھر اٹھیں قدم بے اختیار آئے
جو آئے میکدے سے بے خود و مستانہ وار آئے
کہیں ایسا نہ ہو با ہوش کوئی بادہ خوار آئے
دل و ایماں و دیں ہوش و خرد کچھ بھی نہیں باقی
کسی کی ہم نگاہ ناز کا صدقہ اتار آئے
زخمِ دل کا ہو مداوا مجھے منظور نہیں
زیست کا میری سہارا ہے یہ ناسور نہیں
مانگتا ہوں میں تجھے تجھ سے نیا ہے یہ سوال
بات رد کرنا گدا کی تیرا دستور نہیں
آپ آ جائیں دمِ نزع مجھے لینے کو
آپ کی شانِ کرم سے تو یہ کچھ دور نہیں
گو سدا تم نے کج ادائی کی
ہم نے ہر ظلم کی سمائی کی
دل کے دل میں رہے میرے ارماں
آ گئی عمر پارسائی کی
اس کے وعدے کا اعتبار کیا
جس کی عادت ہو بیوفائی کی