Friday, 23 October 2026

نہ کام فکر سے نکلا نہ چل سکی تدبیر

 نہ کام فِکر سے نِکلا نہ چل سکی تدبیر

کسی طرح سے نہ بدلی پِھری ہوئی تقدیر

ضمیرِ دہر سے اندیشۂ خِزاں نہ گیا

بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر

تعینات میں اُلجھی ہوئی ہے فِکرِ حیات

مِرے زوال کی تمہید ہے مِری تعمیر

اب اعترافِ خطا پر نہ اس نگاہ سے دیکھ

کہ ہو نہ جائے کہیں مجھ سے پھر کوئی تقصِیر

زبانِ عام میں کہتے ہیں کائنات جسے

حقیقتِ غمِ دل کی ہے مختصر تفسِیر

نہیں خُدا کی زمیں تنگ اے چمن والو

کریں گے اور کہیں ہم اب آشیاں تعمیر

زمانہ ہوش بدلنے کو ہے نئی کروٹ

بُجھے پڑے ہیں بہت دن سے قلب و رُوح و ضمیر


ہوش بلگرامی

نواب ہوش یار جنگ

No comments:

Post a Comment