ڈھلتی شام
طویل مُسافت
وحشت زدہ ناگ
تاک میں بیٹھے گِدھ
اور وہ اجنبی مُسافر
شاید کہ آیا تھا
کسی دُور پار کے شہر سے
بدن تار تار
لہو رِستا ہوا
جبرِ مُسلسل کا قیدی
انتظار کی سُولی پہ لٹکا
ندی کنارے
کسی سوچ میں تھا ڈُوبا
کبھی ہنستا
کبھی روتا
کوئی پاگل تھا شاید
انسانوں کی بستی کا
ڈسا ہوا
نکالا ہُوا، بھٹکا ہُوا
اسماء طارق
No comments:
Post a Comment