مدفون کوئی جسم نہ کوئی کفن میں ہے
بس خاک پر پڑی ہوئی ہر لاش رن میں ہے
اک فصل تھی جو وقت سے پہلے ہی کٹ گئی
ماتم انہیں گُلوں کا جلوسِ چمن میں ہے
کچھ پھُول تین دن سے جُھلستے ہیں پیاس میں
اس غم سے قُربِ نہر کا سبزہ گُھٹن میں ہے
میدان جنگ میں وہ امامت کا طرزِ جنگ
تقریر الوہیت کی بُتوں کے سخن میں ہے
اک سر کٹا ہوا ہے اور اک سر ہے بے رِدا
ہر امتحاں میں بھائی سا جذبہ بہن میں ہے
عابد کے دستِ پاک میں زنجیر ہے مگر
محشر کی باگ ڈور یدِ پنجتن میں ہے
علی رضا اسیر
No comments:
Post a Comment