Saturday, 31 October 2026

مدفون کوئی جسم نہ کوئی کفن میں ہے

 مدفون کوئی جسم نہ کوئی کفن میں ہے

بس خاک پر پڑی ہوئی ہر لاش رن میں ہے

اک فصل تھی جو وقت سے پہلے ہی کٹ گئی

ماتم انہیں گُلوں کا جلوسِ چمن میں ہے

کچھ پھُول تین دن سے جُھلستے ہیں پیاس میں

اس غم سے قُربِ نہر کا سبزہ گُھٹن میں ہے

میدان جنگ میں وہ امامت کا طرزِ جنگ

تقریر الوہیت کی بُتوں کے سخن میں ہے

اک سر کٹا ہوا ہے اور اک سر ہے بے رِدا

ہر امتحاں میں بھائی سا جذبہ بہن میں ہے

عابد کے دستِ پاک میں زنجیر ہے مگر

محشر کی باگ ڈور یدِ پنجتن میں ہے


علی رضا اسیر

No comments:

Post a Comment