Saturday, 31 October 2026

تھک کے بیٹھ گیا زندگی تو جاری تھی

 میں تھک کے بیٹھ گیا زندگی تو جاری تھی

وہ ایک شام جو خود سے پرے گزاری تھی

وہ ایک دستِ کرم مہربان تھا مجھ پر

تمام جسم پہ زخموں کی دستکاری تھی

وہ پھُول لے کے میرا ساتھ دینے آئی تھی

وہ اس لیے کہ خِزاؤں سے جنگ جاری تھی

فِراق تم پہ مُسلط کیا گیا تھا،۔ مگر

وہ بھُول جانے کی کوشش تو اِختیاری تھی

میں اپنی جھولی گُلابوں سے بھر کے نِکلا تھا

وہ گھر سے نِکلا تو ہاتھوں میں اِک پِٹاری تھی


رضوان بابر

No comments:

Post a Comment