میں تھک کے بیٹھ گیا زندگی تو جاری تھی
وہ ایک شام جو خود سے پرے گزاری تھی
وہ ایک دستِ کرم مہربان تھا مجھ پر
تمام جسم پہ زخموں کی دستکاری تھی
وہ پھُول لے کے میرا ساتھ دینے آئی تھی
وہ اس لیے کہ خِزاؤں سے جنگ جاری تھی
فِراق تم پہ مُسلط کیا گیا تھا،۔ مگر
وہ بھُول جانے کی کوشش تو اِختیاری تھی
میں اپنی جھولی گُلابوں سے بھر کے نِکلا تھا
وہ گھر سے نِکلا تو ہاتھوں میں اِک پِٹاری تھی
رضوان بابر
No comments:
Post a Comment