Friday, 30 October 2026

عشق کیا تھا پھر بدنام تو ہونا تھا

 اک تماشہ صبح و شام تو ہونا تھا

عشق کِیا تھا پھر بدنام تو ہونا تھا

ہم تھے مُجرم، اپنا جُرم بغاوت تھا

اپنے سر پہ کچھ الزام تو ہونا تھا

حق کوئی کا شیوہ ہم نے اپنایا

بالآخر ہم کو ناکام تو ہونا تھا

بازارِ دُنیا میں تجارت زور پہ تھی

حُسن و وفا کو پھر نیلام تو ہونا تھا

ہم نے سُنہرے خواب سجائے آنکھوں میں

اپنا بھیانک سا انجام تو ہونا تھا


رانا احمد شہید

No comments:

Post a Comment