Friday, 23 October 2026

پہرا ہے حسرتوں کا دل و جاں کے آس پاس

 پہرا ہے حسرتوں کا دل و جاں کے آس پاس

اچھے ہیں پاسباں مِرے ساماں کے آس پاس

تھا ہم سے خوفِ جامی دری، بعدِ مرگ بھی

پھرتا رہا کفن،۔ تنِ عُریاں کے آس پاس

خلوت میں ہم چراغ جلاتے نہیں کبھی

پھرتا ہے نُور شمعِ شبستاں کے آس پاس

فتنے اُٹھیں گے اس نِگہِ سحر فن کے ساتھ

بیٹھے ہوئے ہیں گوشۂ داماں کے آس پاس

جلدی ہے ختم ہونے کی شورِ حیات کو

چرچے ہیں ایسے شہرِ خموشاں کے آس پاس

شاکر! نہیں جو خاک بسر داستانِ عشق

کیا ہے خطا غُبار میں عُنواں کے آس پاس


علامہ شاکر نائطی

No comments:

Post a Comment