واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ
بے چین ہیں جو صدمۂ درد جگر سے آپ
یہ بھی خبر ہے دل پہ گزرتی ہے میرے کیا
جا تو رہے ہیں پھیرے ہوئے منہ ادھر سے آپ
آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے
واقف نہیں ہیں کیا مِری شام و سحر سے آپ
لایا ہے شوق جب مجھے قاصد کے ساتھ ساتھ
کیا پوچھتے ہیں حال مِرا نامہ بر سے آپ
اس نے بہا دیا مِرے صبر و قرار کو
ڈرتے رہیں خدا کے لئے چشم تر سے آپ
تشریح حالت دل بے تاب کیوں کروں
وہ پوچھ لیں گے حال مِرا نامہ بر سے آپ
مسعود دیکھ بھال کے سر چڑھیے ورنہ پھر
گر جائیے گا ایک دن ان کی نظر سے آپ
سید مسعود حسن لکھیم پوری
No comments:
Post a Comment