Sunday, 11 October 2026

واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

 واقف ہیں میرے نالۂ دل کے اثر سے آپ

بے چین ہیں جو صدمۂ درد جگر سے آپ

یہ بھی خبر ہے دل پہ گزرتی ہے میرے کیا

جا تو رہے ہیں پھیرے ہوئے منہ ادھر سے آپ

آرام دن کو اور نہ راتوں کو چین ہے

واقف نہیں ہیں کیا مِری شام و سحر سے آپ

لایا ہے شوق جب مجھے قاصد کے ساتھ ساتھ

کیا پوچھتے ہیں حال مِرا نامہ بر سے آپ

اس نے بہا دیا مِرے صبر و قرار کو

ڈرتے رہیں خدا کے لئے چشم تر سے آپ

تشریح حالت دل بے تاب کیوں کروں

وہ پوچھ لیں گے حال مِرا نامہ بر سے آپ

مسعود دیکھ بھال کے سر چڑھیے ورنہ پھر

گر جائیے گا ایک دن ان کی نظر سے آپ


سید مسعود حسن لکھیم پوری

No comments:

Post a Comment