Showing posts with label مسعود حساس. Show all posts
Showing posts with label مسعود حساس. Show all posts

Monday, 31 October 2022

تمام عمر نہ حائل کبھی غلاف کیا

 تمام عمر نہ حائل کبھی غلاف کیا

تمام عمر ہی ننگے قدم طواف کیا

تمام عمر حقیقت پسند تھا پھر بھی

تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا

تمام عمر ملی روشنی اسی در سے

تمام عمر اسی در سے انحراف کیا

Tuesday, 25 October 2022

ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

 ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف

ندی نالے ہی نہیں صحرا بنا ہے برف برف

اڑ رہے ہیں روئی کے گالے فضاؤں میں اسیر

ہے لہو بھی منجمد چہرہ ہوا ہے برف برف

مسکرانا ایسے موسم میں کہاں آسان ہے

ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں اس پر ہوا ہے برف برف

Monday, 24 October 2022

ہر کوئی آنکھ کا مہمان نہیں ہو سکتا

 ہر کوئی آنکھ کا مہمان نہیں ہو سکتا

ہر کوئی درد کا دامان نہیں ہو سکتا

ہر کوئی باپ کی اولاد تو ہوتا ہے مگر

ہر کوئی باپ کی پہچان نہیں ہو سکتا

ہر کوئی ایسا کہاں جس کو بٹائیں دل میں

ہر کوئی گھر کا نگہبان نہیں ہو سکتا

Sunday, 23 October 2022

کسی کسی کو جو زر وقت پر نہیں ملتا

 کسی کسی کو جو زر وقت پر نہیں ملتا

کسی کسی کو وہی عمر بھر نہیں ملتا

کسی کسی کو سفر در سفر ہوا درپیش

کسی کسی کو تو اذنِ سفر نہیں ملتا

کسی کسی کو ملا سایۂ ہما، لیکن

کسی کسی کو تو ظلِ شجر نہیں ملتا

Saturday, 22 October 2022

اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

 اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں

جی جان لٹا آیا مگر پھر بھی برا ہوں

اس جسم کو جھونکا ہے مشقت کی اگن میں

ہر لمحہ مر مر کے جیا جی کے مرا ہوں

ہر روز قلم سر کو کیا ہاتھ سے اپنے

ہر رات کو جذبات کی سولی پہ چڑھا ہوں