تمام عمر نہ حائل کبھی غلاف کیا
تمام عمر ہی ننگے قدم طواف کیا
تمام عمر حقیقت پسند تھا پھر بھی
تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا
تمام عمر ملی روشنی اسی در سے
تمام عمر اسی در سے انحراف کیا
تمام عمر نہ حائل کبھی غلاف کیا
تمام عمر ہی ننگے قدم طواف کیا
تمام عمر حقیقت پسند تھا پھر بھی
تمام عمر حقیقت کے برخلاف کیا
تمام عمر ملی روشنی اسی در سے
تمام عمر اسی در سے انحراف کیا
ہر طرف اجلی دھنک موسم ہوا ہے برف برف
ندی نالے ہی نہیں صحرا بنا ہے برف برف
اڑ رہے ہیں روئی کے گالے فضاؤں میں اسیر
ہے لہو بھی منجمد چہرہ ہوا ہے برف برف
مسکرانا ایسے موسم میں کہاں آسان ہے
ہونٹ نیلے پڑ گئے ہیں اس پر ہوا ہے برف برف
ہر کوئی آنکھ کا مہمان نہیں ہو سکتا
ہر کوئی درد کا دامان نہیں ہو سکتا
ہر کوئی باپ کی اولاد تو ہوتا ہے مگر
ہر کوئی باپ کی پہچان نہیں ہو سکتا
ہر کوئی ایسا کہاں جس کو بٹائیں دل میں
ہر کوئی گھر کا نگہبان نہیں ہو سکتا
کسی کسی کو جو زر وقت پر نہیں ملتا
کسی کسی کو وہی عمر بھر نہیں ملتا
کسی کسی کو سفر در سفر ہوا درپیش
کسی کسی کو تو اذنِ سفر نہیں ملتا
کسی کسی کو ملا سایۂ ہما، لیکن
کسی کسی کو تو ظلِ شجر نہیں ملتا
اپنوں کا ستایا ہوا اپنوں کا ڈسا ہوں
جی جان لٹا آیا مگر پھر بھی برا ہوں
اس جسم کو جھونکا ہے مشقت کی اگن میں
ہر لمحہ مر مر کے جیا جی کے مرا ہوں
ہر روز قلم سر کو کیا ہاتھ سے اپنے
ہر رات کو جذبات کی سولی پہ چڑھا ہوں