Wednesday, 29 July 2026

الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں

 الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں 

کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں 

سُبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے 

جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں 

غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے 

بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں 

کہیں کیا مُدعا اپنا سُنائیں راز دل کیوں کر 

ہمارے سامنے کچھ آدمی دُشمن کے بیٹھے ہیں 

مزہ کُنج لحد میں کیوں نہ لوں میں ساغر مل کا 

کہ بادہ خوار پاس آ کر مِرے مدفن کے بیٹھے ہیں 

خُدا کے واسطے ان کو نکل کر جلوہ دکھلا دو 

کہ خُواہش مند کُوچہ میں تِرے چِتون کے بیٹھے ہیں 

ہیں پیاسے ہم تو مُدت کے پلا دے جام مے ساقی 

وہ جب چاہیں پئیں جو منتظر ساون کے بیٹھے ہیں 

طبیعت ہو تو ایسی ہو جو عادت ہو تو ایسی ہو 

ابھی وہ تن کے بیٹھے تھے ابھی وہ من کے بیٹھے ہیں 

اگر رغبت نہ ہو اس دہر میں مُوذی کو مُوذی سے 

تو کیوں خار مُغیلاں پاؤں میں رہزن کے بیٹھے ہیں 

نہیں معلوم کس کو تاڑتے ہیں کس سے وعدہ ہے 

بہ وقت شام پاس آ کر جو وہ چلمن کے بیٹھے ہیں 

نہیں پرواہ اگر اے مشرقی ان کو بلا جانے 

اگر وہ ہیں کھنچے بیٹھے تو ہم بھی تن کے بیٹھے ہیں


سردار گنڈا سنگھ مشرقی

No comments:

Post a Comment