تمام شہر میں ہر سمت یوں اُجالا ہے
کہ جیسے رات کا اب بھید کُھلنے والا ہے
ہماری آنکھ سے اوجھل رہا جو سچ صدیوں
اسے زمیں نے برابر اُگل نِکالا ہے
میاں تمہاری طرف ہے فساد دولت کا
ہمارے ہاں تو لڑائی کی جڑ نِوالہ ہے
وگرنہ موت میں اتنی کشش نہیں ہوتی
کہ داغِ زیست نے کتنوں کو مار ڈالا ہے
سوالِ فِکر کہ میں ہوں یا میں نہیں ہوں اب
مِرے وجود کا اک مُستند حوالہ ہے
واعظہ رفیق
No comments:
Post a Comment